اللہ کی چاہ

کچھ لوگوں سے اللہ انکی انا مانگتا ہے، کچھ سے اللہ انکا مال مانگتا ہے،
کچھ سے نفس، کچھ سے جان، کچھ سے جاہ، کچھ سے عزت، کچھ سے صحت،
کچھ سے دنیا، کچھ سے رغبت، اور کچھ سے اللہ انکا محبوب مانگتا ہے، کچھ سے انکا دل مانگ لیتا ہے۔۔۔۔
انکی محبت مانگ لیتا ہے۔ اللہ کے بندوں کی سب آزمائشیں اللہ کے قریب کرنے کے لیئے ہوتیں ہیں، جو انا، مال، نفس، جاہ، جلال، عزت، رتبہ، رغبت، محبوب اللہ نے دیا اسی اللہ نے دل بھی دیا تو جو اللہ کا ہو اللہ اسے مانگنے کا حق رکھتا ہے،
تو امانت مانگنے پر ہر گلے شکوے سے بے نیاز امانت صرف وہی لوٹاتے ہیں جو اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔
اللہ کے معاملوں میں بدلے کی چاہ تو فقط تاجر رکھتے ہیں، محبت والے تو فقط اللہ کی چاہ پر الحمدللہ لبیک کہتے حاضر ہوتے ہیں ۔۔
جسکو اللہ کی چاہ کی چاہت لگ جاۓ اسے اسکی اپنی ہر چاہت سے بےنیاز کر ہی دیا جاتا ہے۔۔!
مگر یہ بے نیازی بہت بے بسی، بہت عاجزی بہت تلاطم، بہت صبر کے بعد مَن کے سمندر کا حصہ بنتی ہے۔
قربانی ہی تو قرب عطا کرتی ہے، ظرف عطا ہے اور سب کو بقدرِ ظرف آزمایا جاتا ہے اور سبکو بقدرِ ظرف عطا کیا جاتا ہے۔۔۔۔
قربانی کی توفیق بھی عطا ہے۔ اللہ کے کارخانہء قدرت میں سب عطا ہے۔۔۔ ہر آزمائش، ہجر وصل، سزا جزا، سب عطاہے ۔۔ الحمد للہ!
اللہ ہمیں تمام معاملات میں آسانی ،سعادت و سرخروئی عطا کرے ۔۔ آمین

Comments