"جن کے باپ نہیں ہوتے وہ ہی گھر سے کمانے کے لئیے ایسی جگہوں پر نکلتی ہیں"

"جن کے باپ نہیں ہوتے وہ ہی گھر سے کمانے کے لئیے ایسی جگہوں پر نکلتی ہیں"
برقعے میں لپٹی نقاب پوش لڑکی نے یہ کہہ کر نظریں جھکا لیں۔
کاؤنٹر پر موجود دو سیلز گرلز سے آتے جاتے میری ہیلو ہائے ہو جاتی تھی۔ ایک دن مجھے کسی کام سے تھوڑی دیر مال پر رکنا پڑا تو وہ دونوں مجھ سے باتیں کرنے لگیں۔ باتوں باتوں میں پتہ چلا دونوں لڑکیوں کے والد وفات پا چکے ہیں۔
"یہاں بارہ گھنٹے کھڑے ہونا کتنا مشکل کام ہے یہ بس وہ ہی جان سکتی ہے جو یہاں کھڑی ہو۔ پھر جو وہ ذرا توقف کے بعد بولی تو بولتی چلی گئی۔
"ایک دن دو لڑکے آئے ۔ایک نے مجھ پر جملے کسےکہ یہ میری طرف دیکھے۔ لیکن میں نے اگنور کر دیا۔ تو کہنے لگا " کتنی اکڑ ہے اس لڑکی میں" دوسرا بولا .."اگر اس میں کچھ ہوتا تو یہاں کیوں کھڑی ہوتی کہیں پڑھ لکھ کر اچھی جگہ جاب کر رہی ہوتی۔" یہ باتیں سن کر میں نے ان لڑکوں کی طرف نہیں دیکھا۔لیکن میں بہت روئی مجھے لگا کسی نے میرے کندھوں پر منوں بوجھ ڈال دیا ہے۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ میں بہت غلط جگہ کھڑی ہوں ۔ لوگ سمجھتے ہیں یہ آوارہ لڑکیاں ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ ہم کتنی مجبور ہو کر یہاں کھڑی ہیں۔"
دونوں لڑکیاں ایف ۔اے پاس تھیں۔ اور پرائیویٹ بی۔اے کر رہی تھیں۔ دونوں اپنے اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لئیے گھر سے نکلیں تھیں۔بے چارگی اور بے بسی ان کی آنکھوں سے عیاں تھی۔ اس کی ساتھی سہیلی کا لہجہ ڈھیلا پڑ گیا۔ آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے لیکن گھر کا سربراہ شاید مضبوط ہوتا ہے اس نے آنسو حلق میں اتار لیئے۔ اس کی ساتھی سہیلی اسے ڈانٹنے لگی دیکھو رونا مت۔ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی۔ اٹھارہ بیس سال کی دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کو بہلانے اور دلاسے دینے میں مصروف تھیں۔
میں سوچنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جن بچوں کو ماؤں کی گود سے شرافت نہ ملی ہو شاید یہ ہی وہ بچے ہوتے ہیں جو بڑے ہو کر خواتین پر جملے کستے ہیں۔ عزت دار گھرانوں کے لڑکے بھی حیادار ہوتے ہیں۔ شریف مائیں شریف اولاد ہی جنا کرتی ہیں۔
بچے تو جانور بھی پیدا کرتے ہیں۔ اصل بات تربیت ہے۔ بچے پیدا کر کے جانوروں کی طرح بے مہار چھوڑنے سے بہتر ہے انسان ایسے جانور نما بچوں کو جنم ہی نہ دے۔

Copied

Comments