Tarrapati Muhabatein Episode # 02 (تڑپتی محبتیں قسط نمبر 02)

Tarrapati Muhabatein

تڑپتی محبتیں


قسط نمبر :2

میں ہاتھ منہ دھو لوں میرے لیے کھا نا لے آ۔زبیدہ: چلو تم ہاتھ منہ دھو لو میں کھا نا لےکر آتی ہوں۔نذیر واش روم سے ہاتھ منہ دھو کرتولیے سے صاف کرتا ہو اآکر چارپائی پہ بیٹھ گیا ۔لاغر کمزور جسم جو آج زیادہ چلنے کی وجہ تھک گیا تھا ۔اور کانپ رہاتھاتولیہ تکیے پہ رکھا۔وہاں زبیدہ کھانالے کر آتی ہے ۔دونوں نے مل کر کھانا کھایا پھر پانی پیا ،زبیدہ تم نے پوچھا نہیں کہ لڑکے والوں کے بارے میں کیا ہوا؟نذیر میں آپ کوسچی بات بتاؤ تو میرا دل یہی چاہتا ہے کہ مہرین اپنی مرضی سے لڑکا پسند کرلے۔ تاکہ کل کلا کو وہ ہمارے کئے فیصلے پر پچھتاۓ یا خوش نہ رہے ۔میں چا ہتی ہوں میری بیٹی کی شادی وہاں ہو جہاں وہ بہت خوش رہے ۔ زبید ہ تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہم جو کریں گے ۔اس کے برے کے لیےنہیں کریں گےغصے سے بپھر کر اور کیا آج تک ہمارے خاندان میں کبھی بھی کسی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے ،جو یہ کرے گی،
زبیدہ نہیں نہیں میرایہ مطلب نہیں جو آپ سمجھ رہے ہوہماری بیٹی ہمارےہرفیصلے پہ سر جھکاۓ گی،ویسے میں کہہ رہی تھی کہ میری بیٹی کا اور کون ہے جو اس کی خوشی کے بارے میں سوچے ایک میں اور تو اور نہ ہمارے رشتے داروں میں کوئی ہے جہاں ہم نے اپنی بیٹی کو بیا ہنا ہے ۔جب باہر ہی کر نا ہے تو پھر اس کی مرضی شامل ہوجائے تو اس میں کیا برائی ہے نذیر برتن اُٹھا لو ،زبیدہ برتن اُٹھا کر چلی گئ ،نذیر تکیے سے ٹیک لگا کر کچھ سوچنے لگا۔اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تو دروازے پر نذیر کادوست حیدر تھا نذیر گیا اور حیدر کو لے کر کمرےمیں آگیا۔ اور زبید ہ چائے بنا کر لے آئی یہ لیں آپ چائے پئیں اور میں مہرین کو دیکھ لوں کیا کر رہی ہے ۔وہ دونوں باتیں کرنے لگے ،حید ر نذیر سے کیا تو نے زبیدہ اور مہرین سے بات کر لی ہے ؟ ہاں مہرین پڑھائی مکمل کرنے کا کہہ رہی ہے لیکن میں نے زبیدہ کو سختی کرنے کا کہا ہے ۔مان جائے گی ۔لیکن زبیدہ کہہ رہی تھی ۔کہ اگر مہرین اپنی پسند سے لڑکا پسند کرلے ،تو زیادہ بہتر ہوگا ۔جہاں وہ خوش رہ سکے۔ تو تو جانتا ہے کہ ہم اپنی بیٹی کی خوشی میں خوش رہیں گے ۔حیدر یہ تو زبیدہ بہن نے بہت اچھی بات کہی ہے ۔ویسے بھی لڑکے والے اور وقت مانگ رہے ہیں ۔اور میں جانتا ہوں ، نذیر تیرے پاس اتنا وقت نہیں تیری بیماری تو آخری سٹیج پر پہنچ گئی ہے۔ تو زبیدہ سے کہہ کہ مہرین سے بات کرے ،کہ کے اگر اسے کوئی پسند ہے تو اس سے کہے کہ وہ رشتہ لے کر آجائے اورجلدی جلدی مہرین بیٹی کی شادی کر دی جائے۔ چلو ٹھیک ہے۔نذیر حیدر اسی لیے میں چاہتا ہوں میری بیٹی اپنے گھر کی ہو جائے۔اور وہ در در کی ٹھوکریں نہ کھائے ۔جیسا بھی ہو اچھا برا اس کا اپنا گھر ہو اتنے میں آنکھوں میں آنسو بہنے لگے ۔حیدر نذیر تو زبیدہ سے با ت کر اب میں چلتا ہوں ۔جو ہواچھا ہو اور جیسا کرنا ہو مجھے بتادینا اگر اسی لڑکے والوں سے بات کرنی ہوئی تو مجھے بتا دینا ٹھیک اچھا پھر رب راکھا ۔اور حیدرچلا گیا ۔
اتنے میں زبیدہ کمرے میں داخل ہوئی ۔بھائی حیدر کس بارے میں بات کرنے کو کہہ رہے تھے ۔نذیر وہ میں نے تیری بات حیدر کے سامنے رکھی تھی کہ زبیدہ کہتی ہے کہ مہرین اپنی مرضی سے لڑکا پسند کر لے۔ یہ سن کر زبیدہ کا چہرہ گلاب کی طرح کھِل اُٹھا۔ ٹھیک ہے اگر آپ کہتے ہیں تو میں مہرین سے بات کر لیتی ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے زبیدہ جلدی سے مہرین کے کمرے میں چلی گئی۔مہرین تمہیں پتہ ہے تمہارے باپ نے مجھ سے تمہاری خوشی پوچھنے کی بات کی ہے۔ کہ اگر کوئی لڑکا تمہیں پسند ہے توہمیں بتاو۔یہ سن کر مہرین کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہااور وہ خوشی سے جھومنے لگی۔میں نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ میرے بابا اتنی آسانی سے مان جائیں گے اور خوشی سے ماں کو گلے لگا لیا۔ ماں مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا کہ میرے بابا اس رشتے کیلئے مان گئے۔مہرین اب تمہیں جلدی سے ساجد سے بات کرنی ہوگی۔ اور اسے کہنا ہو گا کہ وہ جلدی ہمارے گھر رشتہ لے کر آئیں۔تا کہ جلد سے جلد ہم اپنی بیٹی کی خوشیاں دیکھ سکیں۔ٹھیک ہے امی جان میں صبح ہی ساجد سے اس بارے میں بات کروں گی۔ مہرین نے کہا اور زبیدہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔مہرین کی ساری رات خیالوں میں ہی گزر گئی۔ وہ یہی سوچ رہی تھی کہ کب صبح ہو اور کب وہ ساجد سے بات کرے۔ پتہ نہیں ساجد کیا کہے گا۔ پتہ نہیں اس کے گھر والے مانیں گے بھی یا نہیں۔مہرین انہی سوچوں میں گُم تھی کہ فجر کی اذان ہونے لگی۔ مہرین نے اُٹھ کر وضو کیا ،نماز پڑھی اور ناشتا بنانے کیلئے کیچن میں چلی گئی۔
کالج جاتے ہوئے مہرین کی آنکھیں ساجد کو ڈھونڈ رہی تھیں کہ کہیں وہ نظر آئے اور وہ ساری بات اُسے بتا سکے۔لیکن ساجد کہیں نظر نہ آیا اور مہرین کو مایوس ہی کالج جانا پڑا۔وہ بہت پریشان تھی کہ ساجد کیوں نہیں آیا ؟ پہلے تو کبھی بھی ساجد نے ایسا نہیں کیا۔ وہ تو روز میرے آنے سے پہلے وہاں موجود ہوتا تھا۔ پھر آج کیوں؟؟؟ کالج کا وقت بہت مشکل سے گزرا۔
زبیدہ چارپائی پہ لیٹی سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں وہ لڑکا مہرین کو کیا جواب دیتا ہے؟ یہ محبت یک طرفہ ہےیا واقعی وہ لڑکا بھی مہرین سے محبت کرتا ہے۔ پتہ نہیں دیکھنے میں کیسا ہو گا، کردارکا کیسا ہے ،کہیں آوارہ ہی نہ ہو ؟ مہرین کے ساتھ ٹائم پاس ہی نہ کر رہا ہو؟؟؟ اگر اُس نے مہرین کو انکار کر دیا تو!نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ میری بیٹی کی پسند ایسی نہیں ہو سکتی  وہ اچھا ہو گا، بہت اچھا ہوگا۔اللہ بہتر کرے گا۔ زبیدہ یہ سب سوچتے ہوئے کروٹیں لے رہی تھیں اورمہرین کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔کالج سے واپسی پر مہرین کی نظریں ایک بار پھر ساجد کو ڈھونڈ رہیں تھیں۔لیکن وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ مہرین مایوس ہی گھر لوٹنا پڑا۔ اس کا دل ڈوب رہا تھاساجد کیوں نہیں آیا؟؟ اب امی کو کیا کہوں گی؟؟
جیسے ہی مہرین گھر داخل ہوئی۔زبیدہ جلدی سے پانی کا گلاس لے کر مہرین کے کمرے میں آ گئی ،بڑے پیار سے آ گئ میری بچی ،مہرین آنکھیں چرا رہی تھی بیگ ٹیبل پہ رکھا پانی کا گلاس لے کر چارپائ پہ بیٹھ کر پینے لگی ،لڑکے سے بات ہوئی،"ہاں ، مہرین کیا کہا لڑکے نے؟؟"
"ماں وہ آج نہیں آیا۔"مہرین نے جواب دیا۔
"کیا مطلب؟ نہیں آیا؟؟ کیوں نہیں آیا؟؟ اس نے منع تو نہیں کر دیا؟ تم مجھ سے چھپا تو نہیں رہی ہو؟ بتاو مہرین جواب دو کیا کہا اس نے؟؟مہرین کے ساتھ چارپائی پہ بیٹھ کردیکھا بیٹی کوئی کسی سے پیار نہیں کرتا ۔یہ سب آوارہ لوگوں کے چونچلے ہوتے ہیں ۔جہاں خوبصورت لڑکی دیکھی وہاں منہ مارنا شروع کر دیا ۔اور جب دل بھر جائے ۔تو اور کی طرف دوڑ پڑے ۔ وہ تو اچھا ہو ا کہ میں نے کہیں تیرے باپ سے اس لڑکے کا ذکر نہیں کیا ،ورنہ مجھے ہی شرمندہ ہو نا پڑھتا ۔
مہرین نہیں ماں وہ ایسا نہیں ہے ۔ایسا نہیں تو پھر کیسا ہے؟پتہ نہیں آج کوئی مسئلہ ہو گیا ہو گا ۔ زبیدہ نہیں نہیں کوئی مسئلہ نہیں وہ تم سے بیذار ہو گیا ہو گا ۔اب ڈھونڈ رہا ہو گا ،نئی محبوبہ
مہرین نہیں ماں زبیدہ توپھر اسے آج ہی نہیں آنا تھا ۔ جب تم نے بات کرنی تھی ،نہیں ماں اسے تو پتہ بھی نہیں کہ میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں ۔یا میں اس سے کیا بات کرنا چاہتی ہو ں ۔ آپ پر یشان نہ ہوں ۔میں اس سے بات کر لوں گی ۔
مہرین اچھا ماں اب میں کپڑے بدل لوں کھا نا کھا لوں اور نماز پڑ ھ لوں ۔ مہرین کپڑے بدلے نماز پڑھی کھا نا کھایا گھر کی صاف صفائی کی ۔ لیکن دل ساجد کی طرف تھا کہ کیا ہو ا آج ساجد مجھ سے ملنے نہیں آیا ۔وہ تو کبھی بھی ایسا نہیں کرتا ،اگر اسے جانا بھی پڑ تا تو وہ صبح مجھے خط کے ذریعے بتا کر جاتا ۔ خدا خیر کرے ،اور اسے اپنے حفظ وامان میں رکھے (امین ) ایسا سوچتے سوچتے دن گزر گیا ۔ رات کا کھانا بنا کر ما ں باپ کو کھلایا ،خود کھا یا ۔اور بیٹھ کر اپنے کالج کاکام دیکھنے لگی ۔لیکن کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا"ساجدتم جلدی سے سامنے آؤ اور میں تمہیں ساری حقیقت بتاؤں"
پھر ساری رات اسی طرح کٹ گئی ۔اگلی صبح جلدی جلدی اٹھ کر نماز پڑھی نا شتہ بنایا ۔ اور کالج کے لیے تیا ر ہو کر روانہ ہوگئی ۔مہرین کی آنکھیں ساجد کو ڈھونڈ رہی تھیں اور اس کا دل بے تاب تھا کہ کب اس سے ملے اور اس اسے سب بتائے ۔لیکن ناکام کالج چلی گئی وہاں کلاس میں جانے کی بجائے ،کالج کی بلڈنگ کے پچھواڑے جا کر رونے لگی ۔کہ آخر کیا وجہ ہے ؟؟وہ کیوں نہیں آرہا ۔ مہرین کی دوست غزالہ جو کہ کلاس میں اسے ڈھونڈ رہی تھی ۔ جب پیر یڈ ختم ہوا ۔ تو وہ مہرین کو تلاش کرنے لگی ۔وہ پریشان تھی ۔کہ مہرین کالج آئی ہے ،کلاس میں نہیں اللہ خیر کرے اس نے کبھی ایسا نہیں کیا آخر مہرین گئی تو کہاں ؟؟اسی پریشانی میں غزالہ پھر اگلے پریڈ کے لیے چلی گئی اور بریک کا انتظار کرنے لگی ۔اور جب بریک ہوئی تو مہرین کو ڈھونڈ نے لگی ۔غزالہ بہت پریشان کہ وہ گئی تو کہاں گئی ۔پھر غزالہ نے سب کمرے چیک کئے کینٹین گئی ۔اور دوستوں سے پوچھا کچھ پتہ نہیں پھر اس نے سوچا بلڈنگ کے پیچھے نہ چلی گئی ہو ۔ غزالہ وہاں آئی تومہرین کی رورو کر آنکھیں سرخ اور سوجھی ہوئی ۔اور پریشان حال بیٹھی تھی ۔غزالہ مہرین تم یہاں کیا بات ہے ؟؟ سب ٹھیک تو ہے  مہرین ہاں سب ٹھیک ہے ۔ غزالہ پھر تم نے کلاس اٹینڈ کیوں نہیں کی ۔ اور یہ رو رو کر آنکھیں کیوں سرخ کر لیں ۔مہرین نہیں غزالہ کوئی بات نہیں بابا کچھ بیمار تھے ۔ اس لیے رورہی تھی ۔غزالہ کچھ نہیں ہوتا سب ٹھیک ہو جائے گا اس میں رو نے والی کوئی بات نہیں ۔چلو اٹھو کینٹین چلتے ہیں اور یہ اپنا منہ دھو لو ورنہ کینٹین والی آنٹی کہے گی اس خوبصورت گڑیا کو کس نے رولایا وہ تم سے بہت پیار کرتی ہیں ۔مہرین مسکرائی پھر منہ دھویا کینٹین گئی وہاں سے سموسے کھائے ۔اور کلاس کی طرف چلی گئی ۔چھٹی ہو گئی ۔ کالج سے نکلی نظریں پھر ساجد کو ڈھونڈ نے لگی ۔لیکن نا کام اور پریشان اگر ماں نے پوچھا تو کیا جواب دوں گی ؟یہ تو میرے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے ۔ گھر پہنچی تو ماں مہرین تمہاری بات ہوئی ؟ مہرین نہیں ماں وہ آج پھر نہیں آیا ۔زبیدہ تو پھر تو نے کیا سوچا بیٹا تیرا باپ آج مجھ سے تیری پسند پوچھ رہا تھا ۔ تو میں نے بہانہ کر دیا کہ میری تجھ سے اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تیرے بابا اس بات کے لیے جلدی کا کہہ رہے ہیں ۔ کہ میں جلدی کروں اور تم سے بات کروں ۔اور جب تک وہ لڑکا کوئی بات نہ بتائے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔یا نہیں تب تک میں تمہارے باپ سے کوئی بات نہیں کرسکتی ۔ مہرین چلو ماں میں صبح اگر وہ آگیا تو اس سے بات کر وں گی ۔زبیدہ:اور اگر نہ آیا تو پھر؟ مہرین: نہیں ماں وہ آئے گا ۔اور میں اس کے سوا کسی سے بھی شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔

Comments