Tarrapati Muhabatein Episode # 01 (تڑپتی محبتیں قسط نمبر 01)

Tarrapati Muhabatein

تڑپتی محبتیں


قسط نمبر : 1
مہرین گورا رنگ ،تیز نقش نین ، درمیانہ قد اور سمارٹ جسم جو کہ اسے پُرکشش بناتا ہے ۔میٹرک پا س کر نے کے بعد فرسٹ ائیر کےلیے کالج جاتی ہے ۔آج اس کا پہلا دن ہےلیکن پہلے ہی دن راستے میں ایک خوبصورت نوجوان ساجد جو گورا رنگ ،چھ فٹ قد ، پولیس کی یونیفارم میں موٹر سایئکل پر جاتےاچانک کالج جاتی مہرین سے ٹکرا گیا ۔ ٹکر سے مہرین کی ٹانگ پر ہلکی سی چوٹ آئی ۔ساجدآپ کو زیادہ چوٹ تو نہیں آئی ۔مہرین بیٹھی ٹانگ پکڑ کر آنکھیں بند کرتے ہائے!بہت درد ہے۔چلیں میں آپ کو جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے چلوں ۔ساجدجلدی سےموٹر سائیکل پر بیٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔وہاں پٹی کروائی اور گھر تک چھوڑکر آیا۔بس پھر اس کے بعد روز ملاقات کا سلسلہ چل نکلا ۔وہ دونوں ایک دوسرے کےپیار میں بلکل کھو چکے تھے۔ ایک دوسرے کے بغیر رہنے کا سوچ بھی نہیں سکتےتھے۔ ایک دن جب مہرین کالج سے گھر پہنچتی ہے ۔گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی ماں زبیدہ کہتی ہے بیٹی مہرین تمہارے لیے بہت ہی اچھا رشتہ آیا ہے۔ اور تیرے باپ کا یہ فیصلہ ہے۔کہ تیری شادی کر دی جائے ۔ میں اور تیرا باپ اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔کیا پتہ کب ہماری آنکھیں بند ہو جائیں۔تجھے معلوم ہے ۔کہ تیرا باپ بیمار رہتا ہے ۔ اور تیرا کوئی بھائی بھی نہیں جو کہ ہمارے تمہارا خیال رکھے ۔ اس لئے بیٹی مان جا۔ مہرین نہیں ماں میں ابھی اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتی ہوں۔دوسر ے دن مہرین کالج گئی۔ تو باپ نذیرکھانستا ہوا،بیماری کا ستایا ہوا ، کافی حالت خراب" زبیدہ کیا تو نے مہرین سے بات کی ؟ اس نے کیا جواب دیا؟ " 
زبیدہ" وہ اپنی پڑھائی مکمل کرنا چاہتی ہے۔" 
"نہیں زبیدہ ہم اور انتطار نہیں کر سکتے۔ ساری عمر ہم اولاد کے لیے ترستے گزاری تو آخر میں خدا نے دی تو وہ بھی ایک بیٹی اب ہم دردر کی ٹھوکروں کے لیے نہیں چھوڑ سکتے ۔ مہرین کو بتا دو کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں۔ کہ اب اسے شادی کرنی ہوگی ۔اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ میں لڑکے والوں کو بول دیتا ہوں کہ وہ آئیں اور بات پکی کر جائیں۔"
مہرین جب گھر لوٹی تو ماں دوپہر کا کھانا بنا کر پسینے سے نڈھال پنکھےکے نیچے بیٹھی رو رہی ہے ۔ مہرین آئی ماں کیا بات ہے ؟ 
"زبیدہ بیٹا تو یوینفارم تبد یل کر لے اور ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھا لے۔ پھر تمہیں سب کچھ بتاتی ہوں"
مہرین جلد ی جلدی کپڑے بدل کر اور ہاتھ منہ دھو کر آگئی ۔ کیا بات ہے ؟ماں آپ کیوں رو رہیں ہیں۔؟آپ ٹھیک تو ہیں اور بابا وہ کیسے ہیں ۔
ز بیدہ ایک لمبی آہ بھر ی !بولی کہ ہم تو ٹھیک ہیں بیٹی ہمیں تمہاری فکر ہے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ کیا ہوا ماں سب ٹھیک تو ہے نا۔
زبیدہ ہم اور انتظار نہیں کر سکتے تمہیں شادی کرنی ہوگی۔تیرا باپ لڑکے والوں کو بلوانے کے لیے بول گیا ہے۔مہرین بہت پریشانی کی حالت میں کمرے کی طرف بڑتی ہے اور سوچتی ہے کہ اب کیا ہوگا ؟میں ساجد کے علاوہ کسی سے بھی شادی کے بارے میں سوچ نہیں سکتی وہ میری زندگی ہے ۔اب میں کیا کروں۔مجھے ماں کو یہ ساری باتیں بتا دینی چاہیں میں کیا کروں؟میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔یہی سوچتے سوچتے شام ہونے کو آئی ۔ ماں نے آواز لگائی مہرین تیرا باپ آتا ہو گا ۔ جلدی سے رات کا کھانا بنا لے بیٹی ۔ مہرین دل میں سوچتی ہے ۔ کہ بابا کے آنے سے پہلے مجھے ماں سےساجد کے بارے میں بات کر لینی چاہئے ۔ مہرین لرزتے ہوئے قدموں کے ساتھ باہر آئی ۔ نہ جانے میری ان باتوں سے میرے ماں باپ پر کیا گزرے گی ۔ میں اپنے ماں باپ کو تکلیف نہیں دیناچاہتی ۔ لیکن ساجد کے سوا کسی کے ساتھ خوش نہیں رہ سکوں گی ۔ اور میں آج تک ساجد سے بھی کبھی اپنے گھر کے بارے میں اور نہ کبھی شادی کے بارے میں کبھی بات نہیں کی۔ اب کیاکروں؟ جو کرے خدا اب ماں سے بات کرتی ہوں۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔
اس سب میں میرا خدا میری مدد کرے دعائیں کرتی ہوئی آگے بڑھتی زبیدہ ماں مہرین کیا سوچ رہی ہے بیٹی ۔
نہیں ماں کچھ نہیں میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں۔ ہاں بولو بیٹی کیا؟ فیصلہ لیا میری بیٹی نے۔مہرین ہاتھوں کو ہاتھوں میں دباتے ہوئے ۔ اور منہ کے زاویے بناتے ہوئے ماں میں شادی کے لیے راضی ہوں ۔ یہ سن کر زبیدہ کے چہرے پر خوشی آگئی۔اور اسکی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگی ۔اور چہرہ کھلکھلانے لگا۔ لیکن ماں ! زبیدہ لیکن کیا بیٹی ؟ مہرین ماں میں شادی تو کر لوں گی ۔ لیکن میں ساجد کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔زبیدہ کون مہرین ماں وہ پولیس ملازم ہے ۔زبیدہ تمہیں کہاں ملا اور تو کیسے اسے جانتی ہے ،مہرین ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں۔ زبیدہ کھکھلا گئی۔یہ تو کیا کہہ رہی ہے میری بچی یہ بات تیرے باپ کو پتہ چلی تو وہ تمہیں کبھی معاف نہیں کریگااور وہ کبھی تیری شادی اس کے ساتھ نہیں کرے گا ۔مہرین رونے لگی اور بولی ماں میں آپ کو دکھ نہیں دینا چاہتی لیکن میں اس کے بغیر کسی اور کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی ۔وہ میری زندگی ہے ۔میں ایک دن نہ دیکھو تو میری جان پہ بن آتی ہے۔ ماں میں اس کے بغیر نہیں جی سکتی ۔پلیز ماں مجھے میرے ساجد سے ملوادے۔زبیدہ میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔میری بیٹی جو فیصلہ بھی ہے وہ تیرے باپ کا ہے ۔وہ یہ سن کر میری جان ہی نکال دے گا۔اورکہے گا ۔میں اس لیے اسے کالج داخل نہیں کروانا چاہتا تھا ۔لیکن تو اپنی بیٹی کو پڑھی لکھی بناناچاہتی تھی ۔تو اب اگر اسے پتہ چلا تو وہ برس پڑے گا۔ کہ یہ سیکھانے کے لیے بھیجتی تھی اپنی بیٹی کو ۔میں کیا کروں؟ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ مہرین ماں جو کر سکتی ہیں۔وہ آپ ہی کر سکتی ہیں۔چلو تم کھانا بناؤمیں کچھ سوچتی ہوں۔ مہرین کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا۔ اور رات کا کھانا بنانے لگی۔کھانا بنانے کے بعد وضوکیا مغرب کی نماز پڑھی اور اپنے رب سے دعا مانگی "اے میرےرب آج پریشانی میں میری نماز یں قضا ہو گئی ۔میں عشاء کی نماز کے ساتھ اپنی نمازیں پوری کر لو ں گی ۔میری مدد فرما"
اور میرے لیے جو بہتر ہے وہی کر میں ساجد کے بغیر کسی کے ساتھ نہیں رہ سکتی ہے ۔ مہرین آپ کھانا کھا لیں ۔جب بابا آئیں گے وہ بھی کھا لیں گے زبیدہ نہیں بیٹی تو کھا لے میں تیرے باپ کے آنے کا انتظار کروں گی ۔
مہرین کھانا کھایا ۔کچھ پڑھائی کی پھر عشاء کی نماز کا وقت ہوا ۔نماز کے لیے وضو کرنے کے لیے گئی۔ تو دیکھا ماں اکیلی صحن میں بیٹھی بابا کا انتظار کررہی ہے ۔زبیدہ مہرین تیرےباپ کہاں چلے گئے ابھی تک نہیں آئے ۔انھوں نے کبھی بھی اتنی دیر نہیں لگائی ۔ آج نہ جانے کہاں چلے گئے مہرین ماں فکرنہ کرو آتے ہی ہوں گے مہرین نماز کے لیے چلی گئی ۔اتنے میں دروازے سے کھا نستا ہوا نذیر داخل ہو گیا۔زبیدہ نذیر کہاں رہ گئے تھے ۔اتنی دیر لگادی میں تو پریشان ہو گئی تھی ۔اللہ خیر کرے ابھی تک آئے کیوں نہیں ۔نذیر میں وہ لڑکے کے بارے میں پتہ کرنے چلاگیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments